ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / منگلورو،اُڈپی اور کاسرگوڈ اضلاع میں یوروپی ممالک سے لوٹے مسافروں میں اکثروں کی رپورٹ نگیٹو: عوام سے خوف میں مبتلا نہ ہونے کی اپیل

منگلورو،اُڈپی اور کاسرگوڈ اضلاع میں یوروپی ممالک سے لوٹے مسافروں میں اکثروں کی رپورٹ نگیٹو: عوام سے خوف میں مبتلا نہ ہونے کی اپیل

Thu, 24 Dec 2020 19:06:23    S.O. News Service

منگلورو 24؍دسمبر (ایس اؤ نیوز)برطانیہ میں ہائی اسپیڈ نئی ساخت کے کورونا وائرس پھیلنے سے دکشن کنڑا ضلع میں بھی وائرس پھیلنے کا خطرہ تھا، اب جب کہ اکثر رپورٹس نگیٹیو آنے کی خبر ملی ہے لوگ راحت کی سانس لے رہے ہیں کہ  جس طرح کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا، اب ویسا  کوئی خطرہ  نہیں ہے اس تعلق سے صحت عامہ کے افسر ڈاکٹر رام چندر بائری نے  عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ اُنہیں  کسی خوف میں مبتلا ہونےکی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 7دسمبر کو برطانیہ سے قریب 66مسافر دکشن کنڑا  پہنچے تھےجن کی محکمہ ہیلتھ   نے نشان دہی کرتےہوئے ان میں سے 47لوگوں کے تھوک کے سیمپل حاصل کئے  تھے جن میں سے 41افراد کی رپورٹ نگیٹیو آئی ہے، بقیہ 6 لوگوں کی رپورٹ آنا باقی ہے۔ انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہاکہ 66میں سے تین لوگ ضلع میں آنے کے بعد واپس برطانیہ لوٹ چکے  ہیں۔ ضلع کے دو افراد بنگلورو میں مقیم ہیں ، وہیں پر ان کے ٹسٹ کا انتظام کیاگیا ہے، ایک فرد نے ملک لوٹنے کےلئے ٹکٹ بک کیا تھا  لیکن بعد میں اُس  نے اپنا سفر رد کردیا۔ برطانیہ سے آئے ہوئے اکثر لوگ ضلع میں 14دن گزار چکے ہیں، جو مدت گزار چکے ہیں اور ان کی رپورٹ نگیٹیو آتی ہے تو انہیں کوارنٹائن کرنےکی ضرورت نہیں ہے۔ صحت عامہ افسرنے دوبارہ بتایا کہ برطانیہ سے لوٹے اکثر مسافروں کی رپورٹ نگیٹو آچکی ہے تو عوام کسی حیرت یا خوف میں مبتلا نہ ہوں۔

اُڈپی:نئی ساخت میں منتقل کورونا وائرس پائے جانے والے برطانیہ اور دیگر ممالک سے اُڈپی  پہنچنے والے 8مسافروں کی کورونا رپورٹ نگیٹیو ہونے کی اُڈپی ضلع صحت عامہ کے افسر ڈاکٹر سدھیر چندر سوڈا نے جانکاری دی ۔ محکمہ کے دفتر میں اخبارنویسوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 21دسمبر کو پانچ لوگ برطانیہ سے ، 2کینڈا ٹورنٹو سے اور ایک آئرلینڈ کے ڈبلین سے اُڈپی  پہنچے تھے۔ جن میں ایک کنداپور ، چار اُڈپی ، کارکلا تعلقہ کے تین سمیت کل 8افراد کے تھوک کے سیمپل 22دسمبر کو جانچ کے لئے لئے گئے تھے۔ 23دسمبر کو ان سب کی رپورٹ نگیٹیو آئی ۔ فی الوقت یہ سبھی لوگ14دن کے  کوارنٹائن میں ہیں ، کوارنٹائن ختم ہونے کے بعد ان تمام کی دوبارہ جانچ کی جائے گی۔ چونکہ ان کی پہلی رپورٹ نگیٹیو آئی ہے اسی لئے ان سے رابطہ میں آنے والوں  کی نشان دہی ضروری نہیں ہو گی۔

انہوں نے بتایا کہ بیرونی ممالک سے آنے والوں کی نگرانی کی جارہی ہے، بین الاقوامی سفر سے لوٹنے والوں کی فوری نشان دہی کرتےہوئے ان کی جانچ کی جائے گی اور انہیں 14دن کے کوارنٹائن میں بھیج دیا جائے گا۔ اگر ان میں سےکسی کی رپورٹ پوزیٹیو آتی ہے تو ہی انہیں اسپتال یا کسی   اداراتی کوارنٹائن سینٹر میں بھیجا  جائے گا۔   انہوں نے کہاکہ فی الحال ہوائی جہازوں پر پابندی عائد کی جاچکی ہے، کوئی بھی برطانیہ وغیرہ سے آنے والے نہیں ہیں۔ اس سلسلےمیں حکومت کی طرف سے جوبھی  نئے رہنما خطوط آئیں گے  ان پر لازمی طورپر عمل کیا جائے گا۔

پوزیٹیو رپورٹ آنے پر جین کی جانچ : بیرونی ممالک سے آنے والوں کا اُڈپی  میں کورونا ٹسٹ کیاجارہاہے۔ اگر ان میں سے کسی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوتی ہے تو ان کے سیمپل کی جینس (نسبی )جانچ کے لئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی بنگلورو (این آئی وی )کو ارسال کئے جائیں گے۔ جہاں ہم  کس نسل کا کورونا ہے، اُس   کا پتہ لگایا جائے گا۔ اس بات کی جانکاری  ڈی ایچ اؤ ڈاکٹر سدھیر نے  دی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کرسمس جشن اور نئے سال کے جشن کے موقعوں پر 10-20سے زائد لوگ جمع نہ ہوں۔ ماسک لگائیں، سانٹائزر کا استعمال کریں ۔ اگر عوام بیدار رہیں گے تو ضلع  میں کورونا سے نجات حاصل ہوسکتا ہے۔

کاسرگوڈ:برطانیہ اور اٹلی سمیت یوروپ سے پہنچے سبھی مسافروں کے لئے کوارنٹائن لازمی ہونے کی کاسرگوڈ ضلع ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ڈی ،سجیت بابو نے جانکاری دی۔کاسرگوڈ_ڈی_سی.jpg ڈی سی دفتر میں منعقدہ کورونا صلاح کار کمیٹی میٹنگ میں وہ بات کررہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا کی نئی ساخت کو دیکھتے ہوئے سخت اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ جن لوگوں میں بیماری کے اثرات یا علامات ہوں تو فوری طورپر قریب کے اسپتال کے ڈاکٹروں سے ملاقات کریں۔ کرسمس اور نئے سال کے جشن کے لئے صرف 100افراد کو ہی شرکت کی اجازت ہے ۔ شادی ، دیگر تقریبات کے انعقاد سے پہلے مقامی انتظامیہ سے منظوری لینے کی بات کہی۔ اس کے علاوہ وارڈس سطح کی بیداری کمیٹیاں بھی فوری طورپر میٹنگ منعقد کرتےہوئے اپنی سرگرمیوں کو متحرک کرنے کاحکم دیا۔ میٹنگ میں ضلع رابطہ افسر مدھوسودھن، تعلیمی نائب  ڈائرکٹر کے وی پشپا، ماس میڈیا افسر عبدالطیف مٹھتل ، عوامی تعلیم ضلع سنچالک دلیپ کمار، ماسٹرپلان سنچالک ودیا پی سی ، کے ایس ایس ایم ضلع سنچالک جیشو جیمس وغیرہ موجود تھے۔


Share: